پروگرام 295C

احسن شان کو سزائے موت: ثبوت کہاں ہے؟

ساہیوال کے مسیحی نوجوان احسن شان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی۔ پروگرام 295C میں لوک وکٹر نے فیصلے، فرانزک رپورٹ اور اپیل پر بات کی۔

ساہیوال کے مسیحی نوجوان احسن شان (احسن مسیح) کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت سنائی ہے۔ بی ٹی ایل ٹی وی کے پروگرام 295C میں میزبان گیسپر ڈینیل نے انسانی حقوق کے کارکن لوک وکٹر سے اس فیصلے پر بات کی۔

لوک وکٹر کے مطابق احسن کے خلاف ایف آئی آر 19 اگست 2023 کو درج ہوئی، یعنی جڑانوالہ کے واقعے کے تین دن بعد۔ اس میں دفعہ 295-A، 295-B، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی دفعہ 11 لگائی گئی تھیں، جبکہ 295-C تفتیش کے دوران شامل کی گئی۔ الزام یہ تھا کہ احسن نے جڑانوالہ میں ملنے والا مبینہ مواد ٹک ٹاک پر شیئر کیا۔

لوک وکٹر نے بتایا کہ فیصلے میں شامل پنجاب فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق احسن کے موبائل فون سے کوئی قابلِ اعتراض مواد نہیں ملا، اور یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ جس ٹک ٹاک اکاؤنٹ کا ذکر ہے وہ احسن کا تھا۔ ان کے بقول اتنے کمزور ثبوت پر سزائے موت قانون کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جڑانوالہ کیس میں جن دو مسیحی لڑکوں پر ابتدا میں الزام لگایا گیا تھا، عدالت انہیں بری کر چکی ہے، جبکہ جلاؤ گھیراؤ کے بہت سے ملزمان کمزور استغاثہ کی وجہ سے رہا ہو گئے۔

پروگرام کے مطابق فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جا چکی ہے۔ لوک وکٹر نے جڑانوالہ کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں زیرِ التوا آئینی درخواست نمبر 53/2023 کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا اور مسیحی برادری سے اتحاد کی اپیل کی۔

پورا پروگرام اوپر ویڈیو میں دیکھیں۔

  • Ehsan Shan
  • Ahsan Masih
  • 295C
  • Sahiwal
  • blasphemy law
  • Jaranwala
  • Luke Victor
  • Pakistani Christians